ملکہ الزبتھ جنھیں دو سال کی عمر میں شاہی دربار سے نکال دیا گیا! -

ملکہ الزبتھ جنھیں دو سال کی عمر میں شاہی دربار سے نکال دیا گیا! –

Read Time:3 Minute, 41 Second


انگلستان کی الزبتھ اوّل اور ہندوستان کے جلال الدّین اکبر ہمعصر فرماں روا تھے۔ ملکہ کے فہم و فراست اور تدبر سے برطانیہ نے عروج پایا۔ ادب اور فنون میں ترقی ہوئی اور اسی طرح ہندوستان میں اکبرِ اعظم کا دور بھی کام یاب تصور کیا جاتا ہے، لیکن مغل شہنشاہ کے برعکس برطانیہ نے اسی زمانے میں ہندوستان اور دیگر مشرقی ممالک میں تجارتی کمپنیاں بھی قائم کیں اور ان کی مدد سے بعد میں دنیا پر حکم رانی کی۔ الزبتھ اوّل نے 1603ء میں وفات پائی تھی۔

ہندوستان میں بنگال، بہار اور اڑیسہ کے حکم راں آزاد تھے، لیکن 1757ء میں ان کی شکست کے بعد برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہاں اپنے قدم جمائے اور پھر جنگِ‌ پلاسی نے انگریزوں کے قبضے کی راہ ہموار کی۔ بنگال کے نواب سراج الدّولہ کا قتل ایسٹ انڈیا کمپنی کے غلبے کی بڑی وجہ بنا۔ اس کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے جسے ملکہ الزبتھ کی طرف سے صرف پندرہ سال کے لیے تجارت کا اجازت نامہ ملا تھا، ہر بار تاجِ‌ برطانیہ سے مدّتِ اجارہ میں توسیع کرواتی رہی اور وہ وقت آیا جب اس کی آڑ میں انگریز برصغیر پر قابض ہو گیا۔ کمپنی کے بارے میں‌ کارل مارکس نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے:

’’ایسٹ انڈیا کمپنی نے صرف اپنے ایجنٹوں کے لیے تجارتی مراکز اور اپنے سامان کے لیے گودام قائم کرنے سے ابتدا کی تھی۔ اپنے تجارتی مرکزوں اور گوداموں کی حفاظت کے لیے اس نے کئی قلعے تعمیر کر لیے تھے۔ اگرچہ 1689ء ہی میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں علاقائی ملکیت کی بنیاد ڈالنے اور علاقائی آمدنی کو اپنے نفع کا ذریعہ بنانے کا خیال کیا تھا۔ پھر بھی 1744ء تک اس کی ملکیت میں بمبئی اور کلکتہ کے مضافات میں کچھ غیر اہم علاقے ہی تھے۔ اس کے بعد کرناٹک میں جو لڑائی ہوئی اس میں نوبت یہاں تک پہنچی کہ چند تصادم کے بعد کمپنی ہندوستان کے اس حصے کی مالک بن بیٹھی۔ بنگال کی جنگ اور کلائیو کی فتوحات نے اور کہیں زیادہ اہم پھل دیے۔ ان کا نتیجہ بنگال، بہار اور اڑیسہ پر حقیقی قبضہ تھا۔‘‘

اگرچہ ملکہ الزبتھ اوّل اس وقت تک دنیا سے جا چکی تھی، لیکن زندگی میں مقبولیت حاصل کرنے والی اس ملکہ کو موت کے بعد بھی ہمیشہ بہت احترام اور عزّت حاصل رہی اور اسی کے عطا کردہ پروانۂ تجارت اور سیاسی فہم و تدبر کی بدولت انگریز بعد میں ہندوستان پر قابض ہوتا چلا گیا۔

ملکہ الزبتھ کے والد شاہ ہنری ہشتم تھے جن کی دوسری بیوی کے بطن سے الزبتھ پیدا ہوئی تھی۔ ستمبر 1533ء میں اس کی پیدائش پر شاہِ انگلستان خوش نہ تھا، کیوں کہ وہ اپنے تخت کا وارث چاہتا تھا۔ اسی پاداش میں اس نے اپنی بیوی پر مختلف الزامات عائد کر کے انجام کو پہنچا دیا اور دو سالہ الزبتھ کو دربار سے نکال دیا۔ کہتے ہیں بادشاہ کی چھٹی بیوی نے کی پرورش کی اور اس بچّی کی تعلیم مکمل ہوئی۔ الزبتھ کا اتالیق اس دور کا مشہور دانش ور راجر ایشام تھا جس نے اسے حکومت کے اسرار و رموز سے بھی آگاہ کیا۔

الزبتھ 14 سال کی تھی جب اس کے والد ہنری ہشتم کی موت ہوگئی اور اس کی جگہ نو سالہ ایڈورڈ ششم تخت پر بیٹھا، لیکن سازشوں کے بعد الزبتھ کی سوتیلی بہن میری اوّل کو تاج پہنا دیا گیا اور 1558 میں اس کی موت کے بعد الزبتھ ملکہ بن گئی۔ وہ سیاسی فہم و شعور رکھنے والی باتدبیر خاتون ثابت ہوئی جس نے اس وقت اس خوبی سے ملک کا نظم و نسق چلایا کہ مخالفین اور مفسدین نے بھی خاموشی اختیار کر لی۔

الزبتھ نے 45 سال بڑی شان و شوکت سے برطانیہ پر حکم رانی کی اور انگلستان میں ترقی اور خوش حالی کا دور دورہ ہوا۔

Comments





Source link

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published.