آرمینیا اور آذربائیجان میں پھر جنگ شروع، درجنوں ہلاکتیں

آرمینیا اور آذربائیجان میں پھر جنگ شروع، درجنوں ہلاکتیں

Read Time:1 Minute, 52 Second


آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین نگورنو کاراباخ تنازع پر ایک بار پھر جنگ چھڑ گئی جس میں دونوں جانب سے اموات کی اطلاعات ہیں جب کہ عالمی طاقتوں نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

آرمینیا کا کہنا ہے کہ اس کے کم از کم 49 فوجی آذربائیجان کے ساتھ ملک کی سرحد کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملے نگورنو کاراباخ کے تنازعے کی وجہ سے کیے گئے ہیں۔

آذربائیجان نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی افواج نے آرمینیائی فوج کی طرف سے بڑے پیمانے پر اشتعال انگیزی کو روکنے کے لیے جوابی فائرنگ کی۔

آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملکی افواج نے اپنی مشترکہ سرحد پر آرمینیائی افواج کی طرف سے “اشتعال انگیزی” کو “روک دیا ہے موجودہ کشیدگی کی ذمہ داری پوری طرح سے آرمینیا کی سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔

آرمینیا کے نائب وزیر خارجہ Vahe Gevorgyan نے آذربائیجان پر الزام لگایا ہے کہ اس نے “آرمینیا کی سرحد پر بلکہ آرمینیا کی سرزمین کے اندر بھی بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی ہے۔

واشنگٹن نے منگل کے روز آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جھڑپوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر فوجی دشمنی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کریملن نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے “ہر ممکن کوشش” کر رہے ہیں۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان “دشمنی کے فوری خاتمے” پر زور دیا ہے۔

Comments





Source link

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published.