ایران کا ظالم بادشاہ ضحاک اور درفشِ‌ کاویانی -

ایران کا ظالم بادشاہ ضحاک اور درفشِ‌ کاویانی –

Read Time:2 Minute, 45 Second


ایک اور بادشاہ جس نے ایران پر حکومت کی، ضحاک تھا۔ یہ اپنے ظلم و ستم او رخون ریزی کے سبب بدنام ہے۔

کہتے ہیں کہ اس کے دونوں شانوں پر دو سانپ پیدا ہو گئے تھے۔ ان کی غذا کے لیے انسان کا گوشت درکار تھا۔ ضحاک ہر روز انسانوں کو ہلاک کرتا اور سانپوں کے لیے خوراک بہم پہنچاتا تھا۔ مارِ ضحاک سے اسی واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ بادشاہ فریدوں کے ہاتھ سے مارا گیا۔
فریدوں اپنی عظمت و صولت کے سبب مشہور ہے۔ جب شاعر کسی بادشاہ کی تعریف کرتے ہیں تو اس کو فریدوں فر کہا کرتے ہیں۔

ضحاک کے عہدِ حکومت میں ایک لُہار تھا جس کا نام کاوہ تھا۔ یہ لُہار اصفہان کا باشندہ تھا۔ اس کے چار بچّے ضحاک نے مروا ڈالے تھے۔ خلقت ضحاک کے جور و ستم سے عاجز آ گئی تھی۔ کاوہ کے دل میں ان واقعات کو دیکھ کر جوش پیدا ہوا۔ اس نے دکان بند کر دی۔ جس چمڑے کو وہ اہرن کے نیچے بچھایا کرتا تھا، اس کو ایک لکڑی پر آویزاں کر کے پھریرا (جھنڈا) بنایا اور ڈھول بجاتا ضحاک کے ظلم کے راگ گاتا نکل کھڑا ہوا۔ درفشِ کاویانی، علَم کاویانی، پرچم کاویانی، اختر کاویانی کے الفاظ سے بھی یہی جھنڈا مراد ہے۔

ایران کے باشندے جو ضحاک کے ظلم و ستم سے تنگ آ گئے تھے، اس جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے۔ کاوہ اس لشکر کو اپنے ساتھ لے کر بڑھا۔ ضحاک کی فوجوں سے اس کی ٹکر ہوئی۔ ان فوجوں نے شکست کھائی، یہاں تک کہ تمام ایران کو کاوہ نے فتح کر لیا۔ اس نے بذاتِ خود سلطنت کرنے سے انکار کیا۔ فریدوں جو جمشید کا بیٹا تھا اور جس کا باپ ضحاک کے ہاتھ سے قتل ہوا تھا، تختِ ایران پر بٹھایا گیا۔ تمام لڑائیوں میں درفش کاویانی فوج کے آگے آگے رہتا تھا۔ پے درپے فتوحات نے یہ بات ذہن نشین کر دی کہ یہ جھنڈا بہت مبارک ہے۔

کاوہ کے مرنے کے بعد فریدوں نے اور فریدوں کے بعد ایران کے دیگر بادشاہوں نے اس جھنڈے کو جواہرات سے مرصع کیا۔ یزد جُرد کے زمانہ تک یہ جھنڈا ہر لڑائی میں فوج کے آگے آگے چلتا تھا۔ حضرت عمر کے زمانے میں یہ جھنڈا مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ اس کے جواہرات تقسیم کر دیے گئے اور چمڑا جلا کر خاکستر کر دیا گیا۔

(سیّد وحید الدّین سلیم کے وقیع مضمون سے پارہ، جس میں انھوں‌ نے اردو ادب میں تلمیحات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، جس سے قدیم تاریخ اور گزشتہ واقعات پر روشنی پڑتی ہے، یہ واقعہ درفشِ کاویانی کی وضاحت کرتا ہے اور لفظ درفش قدیم فارسی میں جھنڈے کے لیے برتا جاتا تھا)

Comments





Source link

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *